1

ایک گاؤں میں سیلاب آگیا، ایک حکومتی افسر گاؤں پہنچا اور لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ پانی کا بہاؤ بہت بڑھ گیا ہے، پانی خطرے کے نشان سے 2 فٹ اونچا ہوگیا ہے۔ لوگوں نے خوفزدہ ہوکر کہا کہ اب کیا ہوگا؟ افسر نے کہا گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ ہم نے انتظام کرلیا ہے۔ خطرے کے نشان کو دو فٹ سے بڑھا کر چار فٹ کردیا ہے۔
یہ لطیفہ ان معاشی پالیسیاں بنانے والے ماہرین کے نام ہے جو مہنگائی کے اسباب ختم کرنے کے بجائے تنخواہ میں اضافے کی بات کرتے ہیں جب کہ دنیا کے معاشی ماہرین کے مطابق تنخواہ میں اضافہ مہنگائی میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔

——————————-

2

پولینڈ میں ایک بچے نے اپنی کلاس ٹیچر کو بتایا کہ ہماری بلی نے چار بچے دیے ہیں، وہ سب کے سب کمیونسٹ ہیں۔ ٹیچر نے خوب شاباش دی۔ ہفتہ بھر بعد جب اسکول انسپکٹر معائنے کے لیے آئے تو ٹیچر نے بچے سے کہا کہ بلی والی بات پھر سے کہیے، بچے نے کہا ہماری بلی نے چار بچے دیے ہیں وہ سب کے سب جمہوریت پسند ہیں۔ ٹیچر نے بوکھلا کر کہا ہفتہ بھر پہلے تو تم نے اس طرح بات نہیں کی تھی، بچہ بولا جی ہاں مگر اب بلی کے بچوں کی آنکھیں کھل گئی ہیں۔
سیاسی جماعتوں کے ان عہدیداروں کے نام جو پارٹی بدل کر دوسری پارٹی میں چلے جاتے ہیں سابقہ پارٹی میں اس طرح کیڑے نکالتے ہیں جیسے پارٹی بدلتے ہی ان کی آنکھیں کھلی ہیں۔

——————————

3
لندن کی ایک بیکری کے کباب عموماً ملکہ کے لیے قصر بکنگھم میں جاتے تھے۔ دوستوں کے مشورے پر بیکری والے نے دکان پر ایک بڑے سائز کا بورڈ نصب کرایا جس پر تحریر تھا کہ ہمارے یہاں کے کباب ملکہ معظمہ بڑے شوق سے تناول فرماتی ہیں۔ قریب کے دوسرے بیکری والے کو اس کی یہ بات زیادہ پسند نہیں آئی۔ اس نے فوراً دکان پر ایک بورڈ لگوایا جس پر تحریر تھا اے اللہ! ہماری ملکہ کی صحت کی حفاظت فرما۔
اپوزیشن کی سیاست کا کردار ادا کرنے والے سیاستدانوں کے نام۔

————————

4

کہتے ہیں کہ ہندوستان میں کرنسی نوٹ جب پہلی بار تصویر کے ساتھ جاری کیے گئے تو اس وقت کے مذہبی حلقوں میں بے چینی پیدا ہوئی، اس ضمن میں ایک وفد اس دور کے ایک بڑے عالم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے پوچھا کہ کرنسی نوٹ پر تصویر کا ہونا صحیح ہے یا غلط؟ محترم عالم دین نے بڑے اطمینان سے جواب دیا۔ میرے بھائیو! میرے فتویٰ دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ مجھے یقین ہے کہ میرا فتویٰ نہیں چلے گا کرنسی نوٹ چل جائے گا۔
دور حاضر کے تقاضوں سے لاعلم اور بے خبر علما کرام کے نام۔
————————-
ایک شہری خاتون گاؤں میں عورتوں کو حساب سکھا رہی تھیں۔ اس نے ایک عورت سے پوچھا کہ اگر تمہارے پاس پچاس روپے ہوں اس میں سے تم بیس روپے اپنے شوہر کو دے دو تو بتاؤ تمہارے پاس کتنے روپے بچیں گے؟ عورت نے جواب دیا کچھ بھی نہیں۔ خاتون نے دیہاتی عورت کو ڈانٹتے ہوئے کہا۔ احمق عورت! تم حساب بالکل نہیں جانتی ہو۔ دیہاتی عورت نے جواب دیا۔ آپ بھی میرے شوہر ’’شیرو‘‘ کو نہیں جانتی ہو۔ وہ سارے روپے مجھ سے چھین لے گا۔
یہ لطیفہ ان ماہرین کے نام جو پالیسیاں بناتے وقت زمینی حقائق سے لاعلم ہوتے ہیں۔
————————–
ایک مولوی صاحب کسی گاؤں پہنچے۔ انھیں تبلیغ کا شوق تھا۔ جمعہ کا خطبہ پورے ایک ہفتے میں تیار کیا لیکن قدرت کا کرنا ایسا ہوا کہ جمعہ کے دن صرف ایک نمازی مسجد میں آیا۔ مولوی صاحب کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کریں۔ انھوں نے اس شخص سے کہا کہ تم واحد آدمی ہو جو مسجد آئے ہو۔ بتاؤ مجھے کیا کرنا چاہیے؟ وہ شخص بولا۔ مولوی صاحب! میں ایک دیہاتی آدمی ہوں۔ مجھے اتنا پتا ہے کہ میں اگر بھینسوں کے لیے چارہ لے کر پہنچوں گا اور وہاں صرف ایک بھینس ہو تو میں اسے چارہ ضرور دوں گا۔ مولوی صاحب بہت خوش ہوئے۔ انھوں نے بھی چوڑی تقریر کر ڈالی۔ اس کے بعد انھوں نے دیہاتی سے پوچھا کہ بتاؤ خطبہ کیسا تھا؟ دیہاتی نے لمبی جمائی لی اور کہا۔ مولوی صاحب! میں ایک دیہاتی آدمی ہوں صرف اتنا جانتا ہوں کہ اگر میرے سامنے ایک بھینس ہوگی تو میں ساری بھینسوں کا چارہ اس کے آگے نہیں ڈالوں گا۔
نصاب تعلیم مرتب کرنے والوں کے نام۔
——————————–
قدیم نوادرات جمع کرنے کی شوقین ایک خاتون نے دیکھا کہ ایک شخص اپنی دکان کے کاؤنٹر پر بلی کو جس پیالے میں دودھ پلا رہا ہے اس چینی کے قدیم پیالے کی قیمت تیس ہزار ڈالر سے کم نہیں۔ خاتون نے سوچا کہ شاید یہ شخص اس پیالے کی قیمت سے ناواقف ہے۔ اس خاتون نے اپنے طور پر بے حد چالاکی سے کام لیتے ہوئے کہا۔ جناب! کیا آپ یہ بلی فروخت کرنا پسند کریں گے؟ تو اس شخص نے کہا۔ یہ میری پالتو بلی ہے، پھر بھی آپ کو یہ اتنی ہی پسند ہے تو پچاس ڈالر میں خرید لیجیے۔
خاتون نے فوراً پچاس ڈالر نکال کر اس شخص کو دیے اور بلی خرید لی، لیکن جاتے جاتے اس دکان دار سے کہا ۔ میرا خیال ہے کہ اب یہ پیالہ آپ کے کسی کام کا نہیں رہا۔ برائے کرم اسے بھی مجھے دے دیجیے۔ میں اس پیالے میں بلی کو دودھ پلایا کروں گی۔ دکان دار نے کہا۔ خاتون! میں آپ کو یہ پیالہ نہیں دے سکتا، کیونکہ اس پیالے کو دکھا کر اب تک 300 بلیاں فروخت کرچکا ہوں۔
دنیا میں بسنے والے ان باشعور عوام کے نام جنھیں طرح طرح سے بے وقوف بنایا جاتا ہے۔

نمکین لیموں۔ تین دوستوں کی کہانی۔ پڑھیے

صدیوں پہلے ترکی کے شہر قسطنطنیہ میں تین نوجوان گہرے دوست حامد،محمود اور احمد تھے وہ تینوں شہزادی سے شادی کرنا چاہتے تھے لیکن یہ بات ایک دوسرے سے چھپائی ہوئی تھی کہ کہیں مذاق نہ بنے ایک دن شادی کا ذکر نکلا تو تینوں نے کہا کہ شادی کے لئے تو بہت دولت کی ضرورت ہوتی ہے

پہلے ہمیں دولت کا بندوبست کرنا ہوگا تینوں قسمت آزمائی کے لئے مختلف سمتوں میں روانہ ہوگئے اور طے پایا کہ ایک سال بعد دوبارہ اسی جگہ ملیں گے،
حامد شمال کی طرف محمود جنوب کی طرف اور احمد مشرق کی طرف روانہ ہوگیا۔

حامد راستے کی مصیبت جھیلتا ہوا ایک انجان شہر کے بازار میں پہنچا بڑی رونق تھی ہجوم کا یہ عالم تھا کہ کھوے سے کھوا چھلتا تھا حامد نے دیکھا کہ سڑک کے کنارے ایک بوڑھا سوداگر آئینہ لیے بیٹھا ہے اور آواز لگارہا ہے۔
”لے لو آئینہ سرکار،،،قیمت اس کی سو دینار“
حامد نے حیرت سے کہا آئینے کے اتنے دام یہ تو بہت مہنگا ہے،
سوداگر بولا بالکل نہیں حضور! میں تو کوڑیوں کے مول بیچ رہا ہوں آئینہ لاجواب ہے حضور اس آئینے میں یہ خوبی ہے کہ اسے سامنے رکھیے اور جس شخص کا نام لیجیے اس کی صورت میں نظر آجائے گی اور معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس حال میں ہے اور کس جگہ پر ہے،حامد نے حیرت سے پوچھا چاہے وہ شخص یہاں سے سیکڑوں کوس پر ہو؟سوداگر نے بتایا اے حضور سیکڑوں کہتے ہیں میں کہتا ہوں چاہے کوئی ہزاروں کوس پہ کیوں نہ ہو فقط اس کا نام لیجئے وہ نظر آجائے گا حامد ٹھیک ہے میاں سوداگر یہ لو سو دینار اور آئینہ مجھے دو،
سوداگر شکریہ حضور اللہ آپ کو جیتا رکھے،محمود جنوب کی طرف روانہ ہوا تھا اور اس نے کئی دریا پار کیے بہت سے جنگلوں کی خاک چھانی کئی ملکوں کی سیرکی آخر وہ ملک زر نگار میں پہنچا وہاں کے ایک شہر میں داخل ہوا اس شہر کے ایک بارونق بازار میں ایک سو داگر قالین بیچ رہا تھا محمود سوداگر سے باتیں کرنے لگا،سوداگر دیکھو کتنا ہے زریں کتنا اچھا ہے قالین اس کی قیمت دو سو دینار ہے سرکار لے لیجئے،محمود نے کہا آخر اس میں کون سی خوبی ہے جو اس قدر مہنگا ہے؟سوداگر میرے سرکار یہ جادو قالین ہے حضور اس قالین پر بیٹھ کر اسے حکم دیجئے کہ چل قالین پھر یہ اُڑنے لگے گا اور جہاں آپ کا جی چاہے گا وہاں یہ آپ کو لے جائے گا محمود کو بڑی حیرت ہوئی اچھا ایسا ہے ؟سوداگر بولا جی سرکار جبھی تو اس کی قیمت دو سو دینار ہے،محمود نے کہا خوب خوب یہ لو میاں دو سو دینار اور ادھر لاﺅ قالین سوداگر جھک کر آداب بجا لایا عنایت نوازش مہربانی،
احمد مشرق کی طرف روانہ ہواوہ عمر میں سب سے چھوٹا تھا خوب صورت رحم دل اور بہادر بھی تھا اس نے سب سے زیادہ دکھ جھیلے اس کی ٹوپی پر گرد کی تہ جم گئی اس کا لباس تار تار ہوگیا وہ راستے بھر غریبوں محتاجوں اور مصیبت زدوں کی مدد کرتا اپنا کھانا فقیروں کو کھلاتا ہوا ایک ملک سے دوسرے ملک میں چلا جارہا تھا حتیٰ کہ وہ ایک شہر کے جگمگاتے ہوئے بازار میں پہنچ گیا وہاں ایک تاجر لیموں بیچ رہا تھا تاجر آواز لگارہا تھا میرا لیموں ہے نمکین کھائے اسے بیمار مکین احمد بولا بھائی کیا کہتے ہو کہیں لیموں نمکین ہوتا ہے؟سوداگر نے جواب دیا یہ وہ لیموں ہے سرکار جس کو کھاتے ہیں بیمار احمد نے پوچھا کتنے کا؟سوداگر بولا ایک ہزار دینار احمد نے حیرت سے کہا بھئی کیوں مذاق کرتے ہو؟سوداگر نے بتایا اس کا عرق آب ِحیات کا اثر رکھتا ہے یعنی بیماری سے مایوس انسان کو اچھا کردیتا ہے جس مریض کو دوا سے فائدہ نہ ہوا اس لیموں کو کاٹ کر عرق نچوڑیے بیمار کے حلق میں ٹپکائے وہ فوراً بھلا چنگا ہوجائے گا،احمد نے کہا اچھا ایسی بات ہے تو یہ لو بھائی ایک ہزار دینار اور ادھر لاﺅ لیموں ،سوداگر خوش ہوکر بولا جُگ جُگ جئیں سرکار اللہ آپ کو کامیاب کرے ایک سال گزرگیا وہ تاریخ آپہنچی جس کے لئے تینوں دوستوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس مقام پر جمع ہوں گے جہاں سے وہ رخصت ہوئے تھے تینوں نے وعدہ پورا کیا اور وہاں پہنچ گئے پہلے حامد نے آئینے کے بارے میں بتایا بھائی میرے سفر کا تو حال یہ آئینہ ہے یہ ایسا ہے کہ جس شخص کے دل میں خیال کرو اس کی صورت اس میں نظر آجائے گی اور معلوم ہوجائے گا کہ وہ
شخص کہا ں ہے؟
محمود نے کہا بھائی میں یہ قالین لایا ہوں اس میں خوبی یہ ہے کہ اس پر بیٹھ کر جہاں چاہو اُڑ کر پہنچ جاﺅ،
احمد نے بتایا میں تو یہ لیموں لایا ہوں محمود اور حامد ہنسنے لگے احمد نے مزید کہا اس لیموں کا عرق جس بیمار کو پلادو وہ فوراً ہی اچھا ہوجاتا ہے محمود نے پوچھا اور ملا کتنے کا؟احمد نے بتایا ایک ہزار دینار کا۔
“حامد نے کہا لو سنو محمود بھائی ان کا ہے کوئی جواب محمود نے کہا تو یہ کہو احمد میاں سار دولت گنوا آئے محمود بولا اچھا خیر چھوڑو ان باتوں کو ذرا اپنا آئینہ تو دکھاﺅ ہم تینوں دوست اس کا نام لیں گے جو ہمیں سب سے زیادہ پسند ہوں۔
حامد نے آئینہ سامنے رکھ کر کہا ٹھیک ہے تو یہ رہا آئینہ ہم تینوں دوست اس کا نام لیں گے جو ہمیں سب سئے زیادہ عزیز ہے،تینوں دوستوں نے بیک زبان شہزادی خانم کا نام لیا حامد نے حیرت سے کہا ارے تو کیا ہم تینوں دوست شہزادی خانم سے شادی کرنا چاہتے ہیں؟حامد نے کہا دوستو! آئینے کی طرف دیکھو اس میں کیا نظر آرہا ہے محمود حیرت زدہ انداز میں بولا یہ بادشاہ سلامت کا محل نظر آرہا ہے یہ محل کا ایک کمرہ دکھائی دے رہا ہے احمد نے کہا ارے یہ مسہری پر کون لیٹا ہے؟حامد نے کہا ارے یہ شہزادی ہے احمد بولا یہ تو بہت تکلیف میں لگ رہی ہے حامد نے غور سے دیکھا ہاں یہ تکلیف سے تڑپ رہی ہے محمود نے کہا اور یہ ان کے پاس کون بیٹھا ہے؟احمد نے بتایا یہ بادشاہ سلامت ہے حامد نے کہا یہ تو رورہے ہیں حامد نے پوچھا اور یہ سفید داڑھی والا کون ہے؟
محمود نے بتایا انہیں نہیں جانتے یہ شاہی طبیب ہیں احمد نے کہا ہاں یہ بڑے حکیم جی ہیں مگر یہ بالکل مایوس اور نااُمید نظر آرہے ہیں احمد نے کہا کاش میرے لیموں کا عرق اس کی حلق میں ٹپکایا جاسکتا مگر یہاں سے شاہی محل کا فاصلہ بہت زیادہ ہے جب تک میں لیموں لے کر پہنچوں کا شاید شہزادی چل بسے محمو دبولا نہیں ایسا نہیں ہوگا تم دونوں میرے قالین پر بیٹھو ہم تینوں پلک جھپکتے میں ان کے کمرے میں موجود ہوں گے وہ طلسمی قالین پر بیٹھ کر تھوڑی ہی دیر میں محل میں پہنچے تو شہزادی کی آواز آئی ہائے میرے اللہ میں مری ابا جان اب میں نہیں بچوں گی بادشاہ نے اسے تسلی دی بیٹی نااُمید نہ ہوں اچانک بادشاہ کی نظر تینوں نوجوانوں پر پڑی ارے کون ہو تم لوگ؟احمد نے کہا ظلِ سبحانی میں شہزادی صاحبہ کے لئے دوا لے کر آیا ہوں حضور ملاحظہ فرمائیے ایک لیموں ہے جس کا مزہ نمکین ہے اس لیموں کا عرق جیسے ہی شہزادی صاحبہ کی حلق میں ٹپکایا جائے گا اللہ کے حکم سے وہ فوراً اچھی ہوجائیں گی بادشاہ نے کہا تو پھر دیر نہ کرو لیموں کا عرق پینے کے تھوڑی دیر بادشاہ نے شہزادی سے پوچھا اب کیسیی طبیعت ہے بیٹی شہزادی نے مسرت سے بھرپور لہجے میں کہا میں اب بالکل اچھی ہوں ابا جان اب میں بیٹھ سکتی ہوں اب میں کھڑی بھی ہوسکتی ہوں یہ لیجئے میں کھڑی ہوگئی

،بادشاہ ماشاءاللہ بہت خوب اللہ نظر بد سے بچائے اللہ سلامت رکھے جُگ جُگ جئیں بادشاہ تینوں کی طرف متوجہ ہوا اے رحمت کے فرشتوں تم کہا سے آئے ہو؟حامد نے جواب دیا ہم تینوں بہت دور سے آئے ہیں بادشاہ نے حیرت سے پوچھا تمہیں شہزادی کی بیماری کی خبر کہاں سے ملی؟انہو ں نے تمام قصہ بادشاہ کو سنادیا بادشاہ نے کہا خوب خوب تم تینوں نے بڑا کاکیا مانگو کیا مانگتے ہوں؟تینوں بیک زبان ہوکر بولے حضور جان کی امان پائیں تو کچھ عرض کریں؟بادشاہی مابدولت نے تمہیں جان کی امان دی پہلے آئینے والا جوان مانگے حامد جھجکتے ہوئے بولا حضور میں شہزادی صاحبہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں بادشاہ نے محمود سے پوچھا قالین والے جوان تو کیا مانگتے ہوں؟محمود نے کہا حضور میں بھی شہزادی سے شادی کرنا چاہتا ہوں ،
بادشاہ نے احمد سے پوچھا اور لیموں والے نوجوان تیری کیا خواہش ہے،حضور خواہش تو میری بھی وہی ہے جو ان دونوں کی ہے آگے حضور کو اختیار ہے بادشاہ نے تینوں سے پوچھا سب سے زیادہ شہزادی کا حق دار کون ہے؟حامد نے کہا حضور میں زیادہ حق دار ہوں کیوں کہ اگر میرا آئینہ نہ ہوتا تو شہزادی صاحب کی بیماری کا حال ہی نہ معلوم ہوتا محمود بولا ظلِ سبحانی اگر میرا قالین نہ ہوتا تو آئینے کا ہونا نہ ہونا سب بے کار ہوتا نہ اتنی جلدی ہم پہنچتے نہ ہماری سرکار شفا یاب ہوتیں،بادشاہ نے احمد سے کہا لیموں والے نوجوان تم چپ کیوں ہو؟حضور مجھے کچھ نہیں کہنا ہے میری خدمت حضور کے سامنے ہے بادشاہ کے لئے انصاف کرنا سخت مشکل ہوگیا اس نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے قاضی صاحب کو طلب کرلیا قاضی صاحب آئے تو بادشاہ نے تمام واقعہ ان کے سامنے رکھ کر کہا کہ فیصلہ کیجیے قاضی صاحب نے کچھ دیر سوچ کر کہا حضور لیموں والے کا حق سب سے زیادہ ہے بادشاہ نے پوچھا وہ کیسے؟قاضی نے وضاحت کی حضور آئینہ اور قالین اب تک صحیح سلامت ہیں مگر لیموں کام آگیا اب وہ دوبارہ کام نہیں آسکتا اس کا عرق واپس نہیں آسکتا اس لیے لیموں والے کا حق سب سے زیادہ ہے بادشاہ نے کہا ہم نے تمہارے فیصلے کو پسند کیا آج سے تمہارا منصب اور بلند ہوا لیموں والے نوجوان تمہیں مابدولت نے داماد کے طور پر چُن لیا احمد نے جھکتے ہوئے کہا حضور کی ذرّہ نوازی ہے بادشاہ نے اعلان کیا آئینے اور قالین والے نوجوان کو انعام و اکرام سے مالا مال کیا جائے گا اور آج سے یہ دونوں ہمارے وزیر ہیں دونوں نے ایک ساتھ کہا اللہ حضور کو سلامت رکھے۔

.