1

ایک گاؤں میں سیلاب آگیا، ایک حکومتی افسر گاؤں پہنچا اور لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ پانی کا بہاؤ بہت بڑھ گیا ہے، پانی خطرے کے نشان سے 2 فٹ اونچا ہوگیا ہے۔ لوگوں نے خوفزدہ ہوکر کہا کہ اب کیا ہوگا؟ افسر نے کہا گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ ہم نے انتظام کرلیا ہے۔ خطرے کے نشان کو دو فٹ سے بڑھا کر چار فٹ کردیا ہے۔
یہ لطیفہ ان معاشی پالیسیاں بنانے والے ماہرین کے نام ہے جو مہنگائی کے اسباب ختم کرنے کے بجائے تنخواہ میں اضافے کی بات کرتے ہیں جب کہ دنیا کے معاشی ماہرین کے مطابق تنخواہ میں اضافہ مہنگائی میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔

——————————-

2

پولینڈ میں ایک بچے نے اپنی کلاس ٹیچر کو بتایا کہ ہماری بلی نے چار بچے دیے ہیں، وہ سب کے سب کمیونسٹ ہیں۔ ٹیچر نے خوب شاباش دی۔ ہفتہ بھر بعد جب اسکول انسپکٹر معائنے کے لیے آئے تو ٹیچر نے بچے سے کہا کہ بلی والی بات پھر سے کہیے، بچے نے کہا ہماری بلی نے چار بچے دیے ہیں وہ سب کے سب جمہوریت پسند ہیں۔ ٹیچر نے بوکھلا کر کہا ہفتہ بھر پہلے تو تم نے اس طرح بات نہیں کی تھی، بچہ بولا جی ہاں مگر اب بلی کے بچوں کی آنکھیں کھل گئی ہیں۔
سیاسی جماعتوں کے ان عہدیداروں کے نام جو پارٹی بدل کر دوسری پارٹی میں چلے جاتے ہیں سابقہ پارٹی میں اس طرح کیڑے نکالتے ہیں جیسے پارٹی بدلتے ہی ان کی آنکھیں کھلی ہیں۔

——————————

3
لندن کی ایک بیکری کے کباب عموماً ملکہ کے لیے قصر بکنگھم میں جاتے تھے۔ دوستوں کے مشورے پر بیکری والے نے دکان پر ایک بڑے سائز کا بورڈ نصب کرایا جس پر تحریر تھا کہ ہمارے یہاں کے کباب ملکہ معظمہ بڑے شوق سے تناول فرماتی ہیں۔ قریب کے دوسرے بیکری والے کو اس کی یہ بات زیادہ پسند نہیں آئی۔ اس نے فوراً دکان پر ایک بورڈ لگوایا جس پر تحریر تھا اے اللہ! ہماری ملکہ کی صحت کی حفاظت فرما۔
اپوزیشن کی سیاست کا کردار ادا کرنے والے سیاستدانوں کے نام۔

————————

4

کہتے ہیں کہ ہندوستان میں کرنسی نوٹ جب پہلی بار تصویر کے ساتھ جاری کیے گئے تو اس وقت کے مذہبی حلقوں میں بے چینی پیدا ہوئی، اس ضمن میں ایک وفد اس دور کے ایک بڑے عالم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے پوچھا کہ کرنسی نوٹ پر تصویر کا ہونا صحیح ہے یا غلط؟ محترم عالم دین نے بڑے اطمینان سے جواب دیا۔ میرے بھائیو! میرے فتویٰ دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ مجھے یقین ہے کہ میرا فتویٰ نہیں چلے گا کرنسی نوٹ چل جائے گا۔
دور حاضر کے تقاضوں سے لاعلم اور بے خبر علما کرام کے نام۔
————————-
ایک شہری خاتون گاؤں میں عورتوں کو حساب سکھا رہی تھیں۔ اس نے ایک عورت سے پوچھا کہ اگر تمہارے پاس پچاس روپے ہوں اس میں سے تم بیس روپے اپنے شوہر کو دے دو تو بتاؤ تمہارے پاس کتنے روپے بچیں گے؟ عورت نے جواب دیا کچھ بھی نہیں۔ خاتون نے دیہاتی عورت کو ڈانٹتے ہوئے کہا۔ احمق عورت! تم حساب بالکل نہیں جانتی ہو۔ دیہاتی عورت نے جواب دیا۔ آپ بھی میرے شوہر ’’شیرو‘‘ کو نہیں جانتی ہو۔ وہ سارے روپے مجھ سے چھین لے گا۔
یہ لطیفہ ان ماہرین کے نام جو پالیسیاں بناتے وقت زمینی حقائق سے لاعلم ہوتے ہیں۔
————————–
ایک مولوی صاحب کسی گاؤں پہنچے۔ انھیں تبلیغ کا شوق تھا۔ جمعہ کا خطبہ پورے ایک ہفتے میں تیار کیا لیکن قدرت کا کرنا ایسا ہوا کہ جمعہ کے دن صرف ایک نمازی مسجد میں آیا۔ مولوی صاحب کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کریں۔ انھوں نے اس شخص سے کہا کہ تم واحد آدمی ہو جو مسجد آئے ہو۔ بتاؤ مجھے کیا کرنا چاہیے؟ وہ شخص بولا۔ مولوی صاحب! میں ایک دیہاتی آدمی ہوں۔ مجھے اتنا پتا ہے کہ میں اگر بھینسوں کے لیے چارہ لے کر پہنچوں گا اور وہاں صرف ایک بھینس ہو تو میں اسے چارہ ضرور دوں گا۔ مولوی صاحب بہت خوش ہوئے۔ انھوں نے بھی چوڑی تقریر کر ڈالی۔ اس کے بعد انھوں نے دیہاتی سے پوچھا کہ بتاؤ خطبہ کیسا تھا؟ دیہاتی نے لمبی جمائی لی اور کہا۔ مولوی صاحب! میں ایک دیہاتی آدمی ہوں صرف اتنا جانتا ہوں کہ اگر میرے سامنے ایک بھینس ہوگی تو میں ساری بھینسوں کا چارہ اس کے آگے نہیں ڈالوں گا۔
نصاب تعلیم مرتب کرنے والوں کے نام۔
——————————–
قدیم نوادرات جمع کرنے کی شوقین ایک خاتون نے دیکھا کہ ایک شخص اپنی دکان کے کاؤنٹر پر بلی کو جس پیالے میں دودھ پلا رہا ہے اس چینی کے قدیم پیالے کی قیمت تیس ہزار ڈالر سے کم نہیں۔ خاتون نے سوچا کہ شاید یہ شخص اس پیالے کی قیمت سے ناواقف ہے۔ اس خاتون نے اپنے طور پر بے حد چالاکی سے کام لیتے ہوئے کہا۔ جناب! کیا آپ یہ بلی فروخت کرنا پسند کریں گے؟ تو اس شخص نے کہا۔ یہ میری پالتو بلی ہے، پھر بھی آپ کو یہ اتنی ہی پسند ہے تو پچاس ڈالر میں خرید لیجیے۔
خاتون نے فوراً پچاس ڈالر نکال کر اس شخص کو دیے اور بلی خرید لی، لیکن جاتے جاتے اس دکان دار سے کہا ۔ میرا خیال ہے کہ اب یہ پیالہ آپ کے کسی کام کا نہیں رہا۔ برائے کرم اسے بھی مجھے دے دیجیے۔ میں اس پیالے میں بلی کو دودھ پلایا کروں گی۔ دکان دار نے کہا۔ خاتون! میں آپ کو یہ پیالہ نہیں دے سکتا، کیونکہ اس پیالے کو دکھا کر اب تک 300 بلیاں فروخت کرچکا ہوں۔
دنیا میں بسنے والے ان باشعور عوام کے نام جنھیں طرح طرح سے بے وقوف بنایا جاتا ہے۔

تاریخی مقامات اور پاکستانی کرنسی

تاریخی مقامات اور ہماری کرنسی

پانچ ہزار کا نوٹ اور فیصل مسجد
پانچ ہزار کے پاکستانی کرنسی کے نوٹ پر فیصل مسجد کی تصویر ہوتی ہے جو کہ اسلام آباد میں واقع ہے۔

 

 

ایک ہزار کا نوٹ اور اسلامیہ کالج
ایک ہزار کے پاکستانی کرنسی نوٹ پر اسلامیہ کالج کی تصویر ہوتی ہے۔ اسلامیہ کالج پشاور میں واقع ہے۔ اور یہ کالج قیام پاکستان سے پہلے کا ہے۔

 

 

ایک سو روپے اور زیارت ریزیڈینسی
پاکستانی 1 سو روپے کے کرنسی نوٹ پر زیارت ریزیڈینسی کی تصویر ہوتی ہے جو کہ کوئٹہ بلوچستان میں واقع ہے۔

 

 

 

بیس روپے کا نوٹ اور موہنجوڈارو
بیس روپے کے پاکستانی کرنسی نوٹ پر ایک قدیم شہر موہنجوڈارو کے کھنڈرات کی تصویر ہوتی ہے یہ سندھ میں واقع ہے۔

 

 

 

دس روپے کا نوٹ اور خیبر پاس
دس روپے کے پاکستانی نوٹ پر خیبر پاس کی تصویر ہوتی ہے جو کہ خیبر پختونخواہ میں واقع ہے۔

 

 

 

دس روپے کا سکہ اور فیصل مسجد
پانچ ہزار کے نوٹ کی طرح 10 روپے کے سکہ پر بھی فیصل مسجد کی تصویر ہوتی ہے

 

 

 

دو روپے کا سکہ اور بادشاہی مسجد
دو Continue reading “تاریخی مقامات اور پاکستانی کرنسی”

ایک گاؤں میں سیلاب آگیا، ایک حکومتی افسر گاؤں پہنچا اور لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ پانی

1

ایک گاؤں میں سیلاب آگیا، ایک حکومتی افسر گاؤں پہنچا اور لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ پانی کا بہاؤ بہت بڑھ گیا ہے، پانی خطرے کے نشان سے 2 فٹ اونچا ہوگیا ہے۔ لوگوں نے خوفزدہ ہوکر کہا کہ اب کیا ہوگا؟ افسر نے کہا گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ ہم نے انتظام کرلیا ہے۔ خطرے کے نشان کو دو فٹ سے بڑھا کر چار فٹ کردیا ہے۔

 

یہ لطیفہ ان معاشی پالیسیاں بنانے والے ماہرین کے نام ہے جو مہنگائی کے اسباب ختم کرنے کے بجائے تنخواہ میں اضافے کی بات کرتے ہیں جب کہ دنیا کے معاشی ماہرین کے مطابق تنخواہ میں اضافہ مہنگائی میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔
——————————

 

2
لندن کی ایک بیکری کے کباب عموماً ملکہ کے لیے قصر بکنگھم میں جاتے تھے۔ دوستوں کے مشورے پر بیکری والے نے دکان پر ایک بڑے سائز کا بورڈ نصب کرایا جس پر تحریر تھا کہ ہمارے یہاں کے کباب ملکہ معظمہ بڑے شوق سے تناول فرماتی ہیں۔ قریب کے دوسرے بیکری والے کو اس کی یہ بات زیادہ پسند نہیں آئی۔ اس نے فوراً دکان پر ایک بورڈ لگوایا جس پر تحریر تھا اے اللہ! ہماری ملکہ کی صحت کی حفاظت فرما۔
اپوزیشن کی سیاست کا کردار ادا کرنے والے سیاستدانوں کے نام۔
————————

 

 

 

3

کہتے ہیں کہ ہندوستان میں کرنسی نوٹ جب پہلی بار تصویر کے ساتھ جاری کیے گئے تو اس وقت کے مذہبی حلقوں میں بے چینی پیدا ہوئی، اس ضمن میں ایک وفد اس دور کے ایک بڑے عالم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے پوچھا کہ کرنسی نوٹ پر تصویر کا ہونا صحیح ہے یا غلط؟ محترم عالم دین نے بڑے اطمینان سے جواب دیا۔ میرے بھائیو! میرے فتویٰ دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ مجھے یقین ہے کہ میرا فتویٰ نہیں چلے گا کرنسی نوٹ چل جائے گا۔
دور حاضر کے تقاضوں سے لاعلم اور بے خبر علما کرام کے نام۔
————————-

 

 

 

 

4

ایک شہری خاتون گاؤں میں عورتوں کو حساب سکھا رہی تھیں۔ اس نے ایک عورت سے پوچھا کہ اگر تمہارے پاس پچاس روپے ہوں اس میں سے تم بیس روپے اپنے شوہر کو دے دو تو بتاؤ تمہارے پاس کتنے روپے بچیں گے؟ عورت نے جواب دیا کچھ بھی نہیں۔ خاتون نے دیہاتی عورت کو ڈانٹتے ہوئے کہا۔ احمق عورت! تم حساب بالکل نہیں جانتی ہو۔ دیہاتی عورت نے جواب دیا۔ آپ بھی میرے شوہر ’’شیرو‘‘ کو نہیں جانتی ہو۔ وہ سارے روپے مجھ سے چھین لے گا۔
یہ لطیفہ ان ماہرین کے نام جو پالیسیاں بناتے وقت زمینی حقائق سے لاعلم ہوتے ہیں۔
————————–

 

 

 

 

5

ایک مولوی صاحب کسی گاؤں پہنچے۔ انھیں تبلیغ کا شوق تھا۔ جمعہ کا خطبہ پورے ایک ہفتے میں تیار کیا لیکن قدرت کا کرنا ایسا ہوا کہ جمعہ کے دن صرف ایک نمازی مسجد میں آیا۔ مولوی صاحب کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کریں۔ انھوں نے اس شخص سے کہا کہ تم واحد آدمی ہو جو مسجد آئے ہو۔ بتاؤ مجھے کیا کرنا چاہیے؟ وہ شخص بولا۔ مولوی صاحب! میں ایک دیہاتی آدمی ہوں۔ مجھے اتنا پتا ہے کہ میں اگر بھینسوں کے لیے چارہ لے کر پہنچوں گا اور وہاں صرف ایک بھینس ہو تو میں اسے چارہ ضرور دوں گا۔ مولوی صاحب بہت خوش ہوئے۔ انھوں نے بھی چوڑی تقریر کر ڈالی۔ اس کے بعد انھوں نے دیہاتی سے پوچھا کہ بتاؤ خطبہ کیسا تھا؟ دیہاتی نے لمبی جمائی لی اور کہا۔ مولوی صاحب! میں ایک دیہاتی آدمی ہوں صرف اتنا جانتا ہوں کہ اگر میرے سامنے ایک بھینس ہوگی تو میں ساری بھینسوں کا چارہ اس کے آگے نہیں ڈالوں گا۔
نصاب تعلیم مرتب کرنے والوں کے نام۔
——————————–

 

 

 

6

قدیم نوادرات جمع کرنے کی شوقین ایک خاتون نے دیکھا کہ ایک شخص اپنی دکان کے کاؤنٹر پر بلی کو جس پیالے میں دودھ پلا رہا ہے اس چینی کے قدیم پیالے کی قیمت تیس ہزار ڈالر سے کم نہیں۔ خاتون نے سوچا کہ شاید یہ شخص اس پیالے کی قیمت سے ناواقف ہے۔ اس خاتون نے اپنے طور پر بے حد چالاکی سے کام لیتے ہوئے کہا۔ جناب! کیا آپ یہ بلی فروخت کرنا پسند کریں گے؟ تو اس شخص نے کہا۔ یہ میری پالتو بلی ہے، پھر بھی آپ کو یہ اتنی ہی پسند ہے تو پچاس ڈالر میں خرید لیجیے۔
خاتون نے فوراً پچاس ڈالر نکال کر اس شخص کو دیے اور بلی خرید لی، لیکن جاتے جاتے اس دکان دار سے کہا ۔ میرا خیال ہے کہ اب یہ پیالہ آپ کے کسی کام کا نہیں رہا۔ برائے کرم اسے بھی مجھے دے دیجیے۔ میں اس پیالے میں بلی کو دودھ پلایا کروں گی۔ دکان دار نے کہا۔ خاتون! میں آپ کو یہ پیالہ نہیں دے سکتا، کیونکہ اس پیالے کو دکھا کر اب تک 300 بلیاں فروخت کرچکا ہوں۔
دنیا میں بسنے والے ان باشعور عوام کے نام جنھیں طرح
طرح سے بے وقوف بنایا جاتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی
چائنہ کی ایک ایسی کمپنی جہاں ہر صبح فی میل عملے کو اپنے باس کو چومنا پڑ تا ہے

The Beautiful Side Of Pakistan | An Album Of 27 Photos

Is Pakistan a beautiful country? What are some main attractions of Pakistan?

Yes, It is a very beautiful country. The landscape of Pakistan is really diverse. It ranges from lofty mountains in the north, the Karakorum and the Himalayas through dissected plateaus to rich alluvial plains of Punjab. Then follows the bareness of Baluchistan and the hot dry deserts of Sindh blending into miles and miles of beaches on the Makran Coast.

The Beautiful Side Of Pakistan | An Album Of 27 Photos.

1: Deosai

2: Ratti Gali Lake

3: Mesa in the Sulaiman Range

4: Murree

5: Attabad Lake

6: Shounter Lake

7: Spin Khwar Waterfall

8: Miri Volcano

9: Makran Coastal Highway

10: One Of The Naltar Lake

11: Lahore

12: Matiltaan, Kalam Valley

13: Bashkar Gol Lake

14: Frozen Shandur Lake

15: Chitta Katha Lake

16: Dudipatsar Lake

17: Pakistan Monument

18: Deosai

19: Wazir Khan Mosque

20: Glacial Lake At Concordia

21: Shandur Lake

22: Trango Towers

23: Phandar Valley

24: Faisal Mosque

25: Badshahi Mosque

26: Faisal Mosque

27: Spantik Summit Ridge

نمکین لیموں۔ تین دوستوں کی کہانی۔ پڑھیے

صدیوں پہلے ترکی کے شہر قسطنطنیہ میں تین نوجوان گہرے دوست حامد،محمود اور احمد تھے وہ تینوں شہزادی سے شادی کرنا چاہتے تھے لیکن یہ بات ایک دوسرے سے چھپائی ہوئی تھی کہ کہیں مذاق نہ بنے ایک دن شادی کا ذکر نکلا تو تینوں نے کہا کہ شادی کے لئے تو بہت دولت کی ضرورت ہوتی ہے

پہلے ہمیں دولت کا بندوبست کرنا ہوگا تینوں قسمت آزمائی کے لئے مختلف سمتوں میں روانہ ہوگئے اور طے پایا کہ ایک سال بعد دوبارہ اسی جگہ ملیں گے،
حامد شمال کی طرف محمود جنوب کی طرف اور احمد مشرق کی طرف روانہ ہوگیا۔

حامد راستے کی مصیبت جھیلتا ہوا ایک انجان شہر کے بازار میں پہنچا بڑی رونق تھی ہجوم کا یہ عالم تھا کہ کھوے سے کھوا چھلتا تھا حامد نے دیکھا کہ سڑک کے کنارے ایک بوڑھا سوداگر آئینہ لیے بیٹھا ہے اور آواز لگارہا ہے۔
”لے لو آئینہ سرکار،،،قیمت اس کی سو دینار“
حامد نے حیرت سے کہا آئینے کے اتنے دام یہ تو بہت مہنگا ہے،
سوداگر بولا بالکل نہیں حضور! میں تو کوڑیوں کے مول بیچ رہا ہوں آئینہ لاجواب ہے حضور اس آئینے میں یہ خوبی ہے کہ اسے سامنے رکھیے اور جس شخص کا نام لیجیے اس کی صورت میں نظر آجائے گی اور معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس حال میں ہے اور کس جگہ پر ہے،حامد نے حیرت سے پوچھا چاہے وہ شخص یہاں سے سیکڑوں کوس پر ہو؟سوداگر نے بتایا اے حضور سیکڑوں کہتے ہیں میں کہتا ہوں چاہے کوئی ہزاروں کوس پہ کیوں نہ ہو فقط اس کا نام لیجئے وہ نظر آجائے گا حامد ٹھیک ہے میاں سوداگر یہ لو سو دینار اور آئینہ مجھے دو،
سوداگر شکریہ حضور اللہ آپ کو جیتا رکھے،محمود جنوب کی طرف روانہ ہوا تھا اور اس نے کئی دریا پار کیے بہت سے جنگلوں کی خاک چھانی کئی ملکوں کی سیرکی آخر وہ ملک زر نگار میں پہنچا وہاں کے ایک شہر میں داخل ہوا اس شہر کے ایک بارونق بازار میں ایک سو داگر قالین بیچ رہا تھا محمود سوداگر سے باتیں کرنے لگا،سوداگر دیکھو کتنا ہے زریں کتنا اچھا ہے قالین اس کی قیمت دو سو دینار ہے سرکار لے لیجئے،محمود نے کہا آخر اس میں کون سی خوبی ہے جو اس قدر مہنگا ہے؟سوداگر میرے سرکار یہ جادو قالین ہے حضور اس قالین پر بیٹھ کر اسے حکم دیجئے کہ چل قالین پھر یہ اُڑنے لگے گا اور جہاں آپ کا جی چاہے گا وہاں یہ آپ کو لے جائے گا محمود کو بڑی حیرت ہوئی اچھا ایسا ہے ؟سوداگر بولا جی سرکار جبھی تو اس کی قیمت دو سو دینار ہے،محمود نے کہا خوب خوب یہ لو میاں دو سو دینار اور ادھر لاﺅ قالین سوداگر جھک کر آداب بجا لایا عنایت نوازش مہربانی،
احمد مشرق کی طرف روانہ ہواوہ عمر میں سب سے چھوٹا تھا خوب صورت رحم دل اور بہادر بھی تھا اس نے سب سے زیادہ دکھ جھیلے اس کی ٹوپی پر گرد کی تہ جم گئی اس کا لباس تار تار ہوگیا وہ راستے بھر غریبوں محتاجوں اور مصیبت زدوں کی مدد کرتا اپنا کھانا فقیروں کو کھلاتا ہوا ایک ملک سے دوسرے ملک میں چلا جارہا تھا حتیٰ کہ وہ ایک شہر کے جگمگاتے ہوئے بازار میں پہنچ گیا وہاں ایک تاجر لیموں بیچ رہا تھا تاجر آواز لگارہا تھا میرا لیموں ہے نمکین کھائے اسے بیمار مکین احمد بولا بھائی کیا کہتے ہو کہیں لیموں نمکین ہوتا ہے؟سوداگر نے جواب دیا یہ وہ لیموں ہے سرکار جس کو کھاتے ہیں بیمار احمد نے پوچھا کتنے کا؟سوداگر بولا ایک ہزار دینار احمد نے حیرت سے کہا بھئی کیوں مذاق کرتے ہو؟سوداگر نے بتایا اس کا عرق آب ِحیات کا اثر رکھتا ہے یعنی بیماری سے مایوس انسان کو اچھا کردیتا ہے جس مریض کو دوا سے فائدہ نہ ہوا اس لیموں کو کاٹ کر عرق نچوڑیے بیمار کے حلق میں ٹپکائے وہ فوراً بھلا چنگا ہوجائے گا،احمد نے کہا اچھا ایسی بات ہے تو یہ لو بھائی ایک ہزار دینار اور ادھر لاﺅ لیموں ،سوداگر خوش ہوکر بولا جُگ جُگ جئیں سرکار اللہ آپ کو کامیاب کرے ایک سال گزرگیا وہ تاریخ آپہنچی جس کے لئے تینوں دوستوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس مقام پر جمع ہوں گے جہاں سے وہ رخصت ہوئے تھے تینوں نے وعدہ پورا کیا اور وہاں پہنچ گئے پہلے حامد نے آئینے کے بارے میں بتایا بھائی میرے سفر کا تو حال یہ آئینہ ہے یہ ایسا ہے کہ جس شخص کے دل میں خیال کرو اس کی صورت اس میں نظر آجائے گی اور معلوم ہوجائے گا کہ وہ
شخص کہا ں ہے؟
محمود نے کہا بھائی میں یہ قالین لایا ہوں اس میں خوبی یہ ہے کہ اس پر بیٹھ کر جہاں چاہو اُڑ کر پہنچ جاﺅ،
احمد نے بتایا میں تو یہ لیموں لایا ہوں محمود اور حامد ہنسنے لگے احمد نے مزید کہا اس لیموں کا عرق جس بیمار کو پلادو وہ فوراً ہی اچھا ہوجاتا ہے محمود نے پوچھا اور ملا کتنے کا؟احمد نے بتایا ایک ہزار دینار کا۔
“حامد نے کہا لو سنو محمود بھائی ان کا ہے کوئی جواب محمود نے کہا تو یہ کہو احمد میاں سار دولت گنوا آئے محمود بولا اچھا خیر چھوڑو ان باتوں کو ذرا اپنا آئینہ تو دکھاﺅ ہم تینوں دوست اس کا نام لیں گے جو ہمیں سب سے زیادہ پسند ہوں۔
حامد نے آئینہ سامنے رکھ کر کہا ٹھیک ہے تو یہ رہا آئینہ ہم تینوں دوست اس کا نام لیں گے جو ہمیں سب سئے زیادہ عزیز ہے،تینوں دوستوں نے بیک زبان شہزادی خانم کا نام لیا حامد نے حیرت سے کہا ارے تو کیا ہم تینوں دوست شہزادی خانم سے شادی کرنا چاہتے ہیں؟حامد نے کہا دوستو! آئینے کی طرف دیکھو اس میں کیا نظر آرہا ہے محمود حیرت زدہ انداز میں بولا یہ بادشاہ سلامت کا محل نظر آرہا ہے یہ محل کا ایک کمرہ دکھائی دے رہا ہے احمد نے کہا ارے یہ مسہری پر کون لیٹا ہے؟حامد نے کہا ارے یہ شہزادی ہے احمد بولا یہ تو بہت تکلیف میں لگ رہی ہے حامد نے غور سے دیکھا ہاں یہ تکلیف سے تڑپ رہی ہے محمود نے کہا اور یہ ان کے پاس کون بیٹھا ہے؟احمد نے بتایا یہ بادشاہ سلامت ہے حامد نے کہا یہ تو رورہے ہیں حامد نے پوچھا اور یہ سفید داڑھی والا کون ہے؟
محمود نے بتایا انہیں نہیں جانتے یہ شاہی طبیب ہیں احمد نے کہا ہاں یہ بڑے حکیم جی ہیں مگر یہ بالکل مایوس اور نااُمید نظر آرہے ہیں احمد نے کہا کاش میرے لیموں کا عرق اس کی حلق میں ٹپکایا جاسکتا مگر یہاں سے شاہی محل کا فاصلہ بہت زیادہ ہے جب تک میں لیموں لے کر پہنچوں کا شاید شہزادی چل بسے محمو دبولا نہیں ایسا نہیں ہوگا تم دونوں میرے قالین پر بیٹھو ہم تینوں پلک جھپکتے میں ان کے کمرے میں موجود ہوں گے وہ طلسمی قالین پر بیٹھ کر تھوڑی ہی دیر میں محل میں پہنچے تو شہزادی کی آواز آئی ہائے میرے اللہ میں مری ابا جان اب میں نہیں بچوں گی بادشاہ نے اسے تسلی دی بیٹی نااُمید نہ ہوں اچانک بادشاہ کی نظر تینوں نوجوانوں پر پڑی ارے کون ہو تم لوگ؟احمد نے کہا ظلِ سبحانی میں شہزادی صاحبہ کے لئے دوا لے کر آیا ہوں حضور ملاحظہ فرمائیے ایک لیموں ہے جس کا مزہ نمکین ہے اس لیموں کا عرق جیسے ہی شہزادی صاحبہ کی حلق میں ٹپکایا جائے گا اللہ کے حکم سے وہ فوراً اچھی ہوجائیں گی بادشاہ نے کہا تو پھر دیر نہ کرو لیموں کا عرق پینے کے تھوڑی دیر بادشاہ نے شہزادی سے پوچھا اب کیسیی طبیعت ہے بیٹی شہزادی نے مسرت سے بھرپور لہجے میں کہا میں اب بالکل اچھی ہوں ابا جان اب میں بیٹھ سکتی ہوں اب میں کھڑی بھی ہوسکتی ہوں یہ لیجئے میں کھڑی ہوگئی

،بادشاہ ماشاءاللہ بہت خوب اللہ نظر بد سے بچائے اللہ سلامت رکھے جُگ جُگ جئیں بادشاہ تینوں کی طرف متوجہ ہوا اے رحمت کے فرشتوں تم کہا سے آئے ہو؟حامد نے جواب دیا ہم تینوں بہت دور سے آئے ہیں بادشاہ نے حیرت سے پوچھا تمہیں شہزادی کی بیماری کی خبر کہاں سے ملی؟انہو ں نے تمام قصہ بادشاہ کو سنادیا بادشاہ نے کہا خوب خوب تم تینوں نے بڑا کاکیا مانگو کیا مانگتے ہوں؟تینوں بیک زبان ہوکر بولے حضور جان کی امان پائیں تو کچھ عرض کریں؟بادشاہی مابدولت نے تمہیں جان کی امان دی پہلے آئینے والا جوان مانگے حامد جھجکتے ہوئے بولا حضور میں شہزادی صاحبہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں بادشاہ نے محمود سے پوچھا قالین والے جوان تو کیا مانگتے ہوں؟محمود نے کہا حضور میں بھی شہزادی سے شادی کرنا چاہتا ہوں ،
بادشاہ نے احمد سے پوچھا اور لیموں والے نوجوان تیری کیا خواہش ہے،حضور خواہش تو میری بھی وہی ہے جو ان دونوں کی ہے آگے حضور کو اختیار ہے بادشاہ نے تینوں سے پوچھا سب سے زیادہ شہزادی کا حق دار کون ہے؟حامد نے کہا حضور میں زیادہ حق دار ہوں کیوں کہ اگر میرا آئینہ نہ ہوتا تو شہزادی صاحب کی بیماری کا حال ہی نہ معلوم ہوتا محمود بولا ظلِ سبحانی اگر میرا قالین نہ ہوتا تو آئینے کا ہونا نہ ہونا سب بے کار ہوتا نہ اتنی جلدی ہم پہنچتے نہ ہماری سرکار شفا یاب ہوتیں،بادشاہ نے احمد سے کہا لیموں والے نوجوان تم چپ کیوں ہو؟حضور مجھے کچھ نہیں کہنا ہے میری خدمت حضور کے سامنے ہے بادشاہ کے لئے انصاف کرنا سخت مشکل ہوگیا اس نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے قاضی صاحب کو طلب کرلیا قاضی صاحب آئے تو بادشاہ نے تمام واقعہ ان کے سامنے رکھ کر کہا کہ فیصلہ کیجیے قاضی صاحب نے کچھ دیر سوچ کر کہا حضور لیموں والے کا حق سب سے زیادہ ہے بادشاہ نے پوچھا وہ کیسے؟قاضی نے وضاحت کی حضور آئینہ اور قالین اب تک صحیح سلامت ہیں مگر لیموں کام آگیا اب وہ دوبارہ کام نہیں آسکتا اس کا عرق واپس نہیں آسکتا اس لیے لیموں والے کا حق سب سے زیادہ ہے بادشاہ نے کہا ہم نے تمہارے فیصلے کو پسند کیا آج سے تمہارا منصب اور بلند ہوا لیموں والے نوجوان تمہیں مابدولت نے داماد کے طور پر چُن لیا احمد نے جھکتے ہوئے کہا حضور کی ذرّہ نوازی ہے بادشاہ نے اعلان کیا آئینے اور قالین والے نوجوان کو انعام و اکرام سے مالا مال کیا جائے گا اور آج سے یہ دونوں ہمارے وزیر ہیں دونوں نے ایک ساتھ کہا اللہ حضور کو سلامت رکھے۔

.

چائنہ کی ایک ایسی کمپنی جہاں ہر صبح فی میل عملے کو اپنے باس کو چومنا پڑ تا ہے

چائنہ کی ایک ایسی کمپنی جہاں ہر صبح فی میل عملے کو اپنے باس کو چومنا پڑ تا ہے

ایک کمپنی جو چائنا کے شہر Tongzhou میں گھریلو استعمال کی مشینری فروخت کرتی ہے، اس کے خاتون عملے کے ارکان کو ہر صبح اپنے مالک کو لازمی طور پر منہ پر چومنا پڑتا ہے،
اور یہ ان کی جاب کا ایک حصہ ہے۔ کمپنی یہ دعوی کرتی ہے کہ ایسا کرنا اس کے عملے کو متحد کرتا ہے اور ایک دوسرے کی مدد کرنے والا بناتا ہے۔

آدھے سے زیادہ کمپنی کا سٹاف لڑکیوں پر مشتمل ہے اور ان سب کو ہر روز صبح 9 بجے سے لیے کر 30 :9 تک لائین میں لگ کر اپنے باس کو چومنا ہوتا ہے
ہر روز صبح تقریب میں ایسا کرنا ضروری ہے اور کمپنی میں رہنے کیلیے یہ ایک شرط ہے۔ ایسا نہ کرنے والے کی کمپنی میں کوئی جگہ نہیں۔ صرف دو خواتین نے ایسا کرنا مناسب نہیں سمجھا اور استیفہ دیا۔

جب باس سے اس بارے میں پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ وہ دنیا کے کئی ملکوں میں گیا ہے حتاکہ اس نے امریکہ میں بھی ایسا دیکھا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے سے کمپنی اچھے طرح کام کرتی ہے۔ ایسی کمپنی بہت اچھی آوٹ پٹ دیتی ہے جہاں باس اور عملے کا رشتہ پانی اور مچھلی جیسا ہو۔

Why Kalabagh Dam was Never Made? | Part 2

Why Kalabagh Dam was Never Made? | Part 2

Why are these provinces against Kalabagh Dam? *The Secret Behind The Curtain* . For last 12 years, Pakistan has faced severe short fall of electricity and whatever electricity. We do have, it is ridiculously high-priced. Most expensive in the South Asian region. On the other hand, the situation is that floods come every 2-3 years. Hundreds of millions of rupees are wasted, people die, families get destroyed. The solution for both floods and electricity shortfall, is dams!. In fact, dams have another plus point which is that when we don’t have enough dams, we produce electricity through petroleum and petroleum we have to import. And wealth flies out of the country. The country gets buried with deficit. Had Kalabagh Dam been made, it would be producing 3600 megawatts of power which would cost around Rs. 1.5/- per unit. Today, we’re producing this electricity through diesel At Rs. 11/- to Rs. 15/- per unitAnd, it destroys the environment as well. If these dams are in everyone’s favor, why are these provinces against it?

* Spilling The Secrets *

When a project hangs in the balance for as long as this project has the realities come out. Print media has published all the secrets. That who is against it, and why KPK’s areas come under danger only if. If the dam’s height is kept very high because then the river water will rise greatly. But obviously, the experts have not designed to dam to drown half of KPK. The real problem is that the lake of this dam will be in KPK But the dam would be made in Punjab. What this means is that Punjab will get royalty of the electricity while KPK will have to sacrifice its land. Sindh’s argument is a little different. Back in 1988, when the design of this dam was completed Sindh feared that Punjab might take away a lot of water through canals. If Punjab takes all the water, Sindh will die out of thirst. In 1991, all four provinces signed a pact and resolved this issue once and for all. That which province will get how much water. This pact is available on the Indus River System Authority’s website. It clearly states how much water can each province take. Any provinces can make new canals, or terminate the old ones. Build new dams or decomission old ones. Water-share will not change. No province can take more than their quota. Even though, Kalabagh Dam’s design doesn’t contain any canals whats oever. But even if a canal is added, Punjab’s share wouldn’t increase. It just cannot happen that Punjab takes away Sindh’s water, KPK takes away Punjab’s water or Gilgit Baltistan takes away KPK’s water. This is not some street cricket where the one who has a bat gets to play first. On KPK’s reservation, there is a simple solution. We should give Punjab’s area where the dam (not the lake) is supposed to be built to KPK then the royalty of dam’s electricity will also go to KPK. But, Pakistanis are always late in coming up with solutions. The problem is that now this issue is being used by the politicians who believe in ‘Divide and Rule!’. Now, it is near impossible that this dam will ever be made. No government will have the audacity to build this dam on the cost of enraging two provinces. But now, our responsibility is that dams that are actually building such as Diamir Bhasha dam and Dasu Dam etc. we shouldn’t make these dams controversial.
We should believe in the experts and complete the projects quickly. We should be Pakistanis first, Sindhi, Balochi, Pathans and Punjabi second. Produce low-cost energy Boost Pakistan’s economy.

Why Kalabagh Dam was Never Made? | Part 1

Why Kalabagh Dam was Never Made? | Part 1
In Punjab, people have a strange sense of humor. You see very unique kinds of signs in the markets. During winters, I saw sign in a shop that said: Customers with cold hands should only ‘Salam’ with their mouths (no handshake!). Another very common sign in the markets is: No credit-buying (udhaar) until Kalabagh Dam is made.

What is this Kalabagh Dam issue?Kalabagh is located in the north-west end of Punjab. Where Punjab meets KPK. This area is famous across Pakistan for its Iron Ore reserves, Nawab of Kalabagh, and the dangerous bridge. It used to be a wooden bridge, but a road has been built on it and it’s not that dangerous anymore. But, Kalabagh’s most famous thing is a dam that was never made. Even though Tarbela Dam and Kalabagh Dam were scheduled to be made together but, back then, WAPDA officials and Government ministers believed that that Tarbela Dam alone is enough for next 50 years. And Kalabagh will generate even more electricity than Tarbela Dam so what’s the point of producing so much electricity?
Where would keep so much power?How right-minded they were… weren’t they?. If check out this area on Google Maps we realize that Indus has a huge amount of water here. Second thing we notice is that the mountains are naturally creating a dam. Mountains surround three sides already
Build a wall on one side, and your dam is ready. The design for this dam was complete in 1988. But, back then, our political leadership was so busy in leg-pulling each other that nobody paid attention to the country. And, with the passage of time, the very project of this dam was washed down. What happened is that KPK and Sindh provinces developed reservations against this dam. KPK’s leaders claim that if this dam is made it will drown Nowshera, a city in KPK, 200 KM away. They claim that Nowshera is only a little above the level of river water and, if the dam is made, then water in the Indus will rise and drown the city. Jamaat-e-Islami of KPK goes as far as claiming that this dam will drown Mardan, Peshawar and Swabi as well. Experts say that there’s zero chance of any city drowning because to this dam. On the other hand, Sindh province claims that if this dam is made yhe delta areas, where Indus meets Arabian Sea, Sea-waters will come up the stream and salinize the whole area. Which means, that the sweet (drinking) water of Indus keeps the sea-water pushed back. If the amount of water reduces, then the salty sea-water will rise up and leave the whole area salinize. If we look at this area on Google Maps, we realize that there aren’t any crops being produced anyway. The point of salinization shouldn’t rise because the land isn’t being used anyway. So, what’s the real problem?

Hidden Facts of MINAR-E-PAKISTAN Lahore

There’s Statue of Liberty in the U.S. And in Pakistan, Minar-e-Pakistan.
In all big cities, there’s always something that becomes the identity of that city. In Sydney, there’s The Opera House. In London, there’s Tower Bridge. And Lahore’s monument is Minar-e-Pakistan. Whenever tourists come to Lahore they never leave without visiting it. We have read poems about it in syllabus books. It is a memorial of Tehreek-e-Pakistan (The Pakistan Movement). It is a symbol of “Pakistaniyat”. But why?

There are lots of must-visit places in Lahore. From Pakistan’s biggest shopping mall to Pakistan’s greatest fort, From delicious food to literary tea houses Lahore has everything!. But the status that Minar-e-Pakistan enjoys nothing else does!. But why?
The biggest reason is that this minaret is situated exactly where the Quaid (Muhammad Ali Jinnah) stood addressing the crowd on 23rd March 1940 and demanded an independent Pakistan from the British government. Back then, obviously, there wasn’t a minaret here, It was only a big public park. Where political gatherings also took place. And, it was called Minto Park. It was renamed Iqbal Park after Pakistan’s creation. But it has become “Greater” Iqbal Park now.

On the 20-year anniversary of 1940 Lahore Resolution the foundation of this minaret was laid. It took almost eight-and-a-half years in the construction of this 228 feet tall minaret. But it only costed 7 million rupees. It’s obvious, there wasn’t any corruption back then. The story behind revenue collection for the construction of this minaret, is also intriguing. The revenue was collected by placing extra taxes on cinema tickets and HORSE RACES!YES!.  The minaret where ALLAH’s names and Quranic verses are written was built with horce-racing money. This minaret is standing on four platforms. First platform is made with rough-cut stone brought from Taxila. It is a symbol of the times when the South Asian Muslims were being suppressed by the British Raaj. The smooth stone of the second platform indicates that the Muslims had started to find inspirational leadership. The third glazed-stone platform symbolizes the Pakistan Movement. And the fourth platform, which is made with white marble symbolizes the creation of Pakistan. Initially, this monument was going to be named Yaadgaar-e-Pakistan (memorial of Pakistan). Then people said memorials can only be made of objects that are no more. So how can it be memorial of Pakistan. Then they decided to name it: Yaadgaar-e-Qaraardaad-e-Pakistan (Memorial of the Pakistan Resolution).
Then they thought such a long name isn’t a good idea. Then finally, it was called Minar-e-Pakistan (minaret of Pakistan). Quite near to the minaret, in the Iqbal Park the mausoleum of Hafeez Jalandhari is situated (the author of Pakistan’s National anthem). Whenever people who love Pakistan come to Iqbal Park they never forget to pay a visit to this mausoleum. An odd thing is that (Allama) Iqbal’s mausoleum is not in Iqbal Park. That is situated across the road, in the shadow of Badshahi Masjid (Royal Mosque).
Oh, I forgot about Greater Iqbal Park So, what happened is that after the creation of Pakistan Minar-e-Pakistan became a symbol of a resolve. And, in its shadow, large-scale political jalsas (conventions) started being organized. (Zulfikar Ali) Bhutto has also conducted mighty jalsas here. The last of such big jalsas was Imran Khan’s jalsa of 30 October (2011) after which, PTI (Imran Khan’s political party) rose as a prominent political force. When things were heating up in the political landscape (Then) PM Nawaz Sharif developed this park through a big project. Models of many important places of Lahore were made Food court was designed and Pakistan’s first dancing fountain was also installed here and, most importantly, he put a blanket ban on all political activities in the park. Now, no political activities take place here. Coming back to the point, you must visit this place whenever you come to Lahore.